Pages

Friday, November 3, 2017

ہر غنچہ لب سے عشق کا اظہار ہے غلط

ہر غنچہ لب سے عشق کا اظہار ہے غلط
اس مبحث صحيح کي تکرار ہے غلط

کہنا پڑا درست کہ اتنا رہے لحاظ
ہر چند وصل غير کا انکار ہے غلط

کر تے ہيں مجھ سے دعوي الفت وہ کيا کريں
کيونکر کہيں مقولہ اغيار ہے غلط

يہ گرم جوشياں تري گو دل سے ہوں ولے
تاثير نالہ ہائے شرر بار ہے غلط

کرتے ہو مجھ سے راز کي باتين تم اس طرح
گويا کہ قول محرم اسرار ہے غلط

اٹھ جا کہا تلک کوئي باتيں اٹھائے گا
نا صح تو خود غلط تري گفتار ہے غلط

سچ تو يہ ہے کہ اس بت کافر کے دور ميں
لاف و گزاف مومن ديندار ہے غلط​
مکمل تحریر >>

Thursday, November 2, 2017

دکھاتے آئينہ ہو اور مجھ ميں جان نہيں


دکھاتے آئينہ ہو اور مجھ ميں جان نہيں
کہو گے پھر بھي کہ ميں تجھ سا بد گمان نہيں

ترے فراق ميں آرام ايک آن ہيں
يہ ہم سمجھ چکے گر تو نہيں تو جان نہيں

نہ پوچھو کچھ مرا احوال مري جاں مجھ سے
يہ ديکھ لو کہ مجھے طاقت بيان نہيں

يہ گل ہيں داغ جگر کے انہيںں سمجھ کر چھيڑ
يہ باغ سينہ عاشك گلستان نہيں

شب فراق ميں پہنچي نہ دل سے جان تلک
کہيں اجل بھي تو مجھ سي ہي ناتوان نہيں

وہ حال پوچھے ہے ميں چشم سرمگيں کو ديکھ
يہ چپ ہوا ہوں کہ گويا مري زبان نہيں

نکل کے دير سے مسجد ميں جا رہ اے مومن
خدا کا گھر تو ہے تيرے اگر مکان نہيں
​
مکمل تحریر >>