Pages

Tuesday, November 21, 2017

لو رات کی بات تمام ہوئی
اب دن کی باتیں کرتے ہیں
سب خواب تماشے دھول ہوئے
اور جگنو تارے دیپ سبھی
پرکاش کے پھیلے ساگر میں
چمکاٹ دکھانا بھول گئے
اک چاند کہ شب بھر ساتھ رہا
وہ چاند بھی گر کر ٹوٹ گیا
لو رات کی بات تمام ہوئی
اب دن کی باتیں کرتے ہیں
پھولوں کے سوجے چہروں پر
شبنم کی چڑیاں اتری تھیں
ان چڑیوں پر ہم سورج کے
تیروں کا نشانہ تکتے ہیں
ادھ میچی اپنی پلکوں سے
ہم گلیوں اور بازاروں میں
سونے کے ریزے چنتے ہیں
اور داغوں دھبوں شکنوں سے
دیواریں کالی کرتے ہیں
پھر اجلے کاغذ پر لکھی
سب گندی خبریں پڑھتے ہیں
لو رات کی بات تمام ہوئی
اب دن کی باتیں کرتے ہیں
مکمل تحریر >>

سورج کا زرہ بکتر


سورج کا زرہ بکتر 
چمکا تو میں گھبرایا 

ٹوٹی ہوئی کھڑکی سے 
لہراتا ہوا نیزہ 

کوندے کی طرح آیا 
میں درد سے چلایا 

ہونٹوں نے پڑھے منتر 
سیماب سی پوروں نے 

اک پوٹلی ابرک کی 
چھڑکی مرے چہرے پر 

اور کرنوں کا اک چھینٹا 
مارا مری آنکھوں پر 

آنکھیں مری چندھیائیں 
کچھ بھی نہ نظر آیا 

جب آنکھ کھلی میری 
دیکھا کہ ہر اک جانب 

زرتار سی کرنوں کا 
اک زرد سمندر تھا 

اور زرد سمندر میں 
چاندی کی پہاڑی پر 

میں پیڑ تھا سونے کا 
شاخوں میں مری ہر سو 

جھنکار تھی پتوں کی 
اڑتی ہوئی چڑیوں کی 

یا آگ کی ڈلیوں کی 
اک ڈار سی آئی تھی 

اور مجھ میں سمائی تھی 
قدموں کے تلے میرے 

زنجیر تھی لمحوں کی 
میرے زرہ بکتر سے 

جو کوندا لپکتا تھا 
تاروں کے جھروکوں تک 

پل بھر میں پہنچتا تھا 
میں جسم کے مرقد سے 

باہر بھی تھا اندر بھی 
میں خود ہی پہاڑی تھا 
اور خود ہی سمندر بھی
مکمل تحریر >>

ڈاکٹر وزیر آغا

"ڈاکٹر وزیر آغا "


  آج اردو کے مشہور نقاد شاعر انشائیہ نگار" ڈاکٹر وزیر آغا" کی برسی ھے ۔
وکیپیڈیا سے

 اردو کے مشہور نقاد شاعر انشائیہ نگار۔
پیدائش18مئی 1922ء
۔۔انتقال 8 ستمبر2010

  • فہرست

  • 1 ابتدائی زندگی
  • 2 صحافت
  • 3 تحقیقی مقالے اور ان پر لکھی جانے والی کتابیں

  • ابتدائی زندگی
مکمل تحریر >>