Pages

Saturday, November 4, 2017

نہ کٹتي ہم سے شب جدائي کي

نہ کٹتي ہم سے شب جدائي کي
کتين ہي طاقت آزمائي کي

رشک دشمن بہانہ تھا سچ ہے
ميں نے ہي تم سے بے وفائي کي

کيوں برا کہتے ہو بھلا نا صح
مين نے حضرت سے کيا برائي کي

دام عاشق ہے دل دہي نہ ستم
دل کو چھينا تو دل رہائي کي

گر نہ بگڑو تو کيا بگڑتا ہے
مجھ ميں طاقت نہيں لڑائي کي

گھر تو اس ماہ وش کا دور نہ تھا
ليکن طالع نے نار سائي کي

دل ہوا خوں خيال ناخن يار
تو نے اچھي گرہ کشائي کي

مومن آئو تمہيں بھي دکھلا دوں
سير بت خانے ميں خدئي کي​
مکمل تحریر >>

Friday, November 3, 2017

ميں نے تم کو دل ديا، تم نے مجھے رسوا کيا

ميں نے تم کو دل ديا، تم نے مجھے رسوا کيا
ميں نے تم سے کي کيا، اور تم نے مجھے سے کيا کيا

کشتہ ناز بتاں روز ازل سے ہوں مجھے
جان کھونے کے لئے اللہ نے پيدا کيا

روز کہتا تھا کہيں مرتا نہيں ہم مر گئے
اب تو خوش ہو بے وفا تيرا ہي لے کہنا گيا

سر سے شعلے اٹھتے ہيں آنکھوں سے دريا جاري ہے
شمع سے يہ کس نے ذکر اس محفل آرا کا کيا

کيا خجل ہوں اب علا ج بے قراري کيا کروں
دھر ديا ہاتھ اس نے دل پر تو بھي دھڑکا کيا

عرض ايماں سے ضد اس غارت گر ديں کو بڑھي
تجھ سے اے مومن خدا سمجھے يہ تو نے کيا کيا​
مکمل تحریر >>

رہتے ہيں جمع کوچہ جاناں ميں خاص و عام

جلتا ہوں ہجر شاہد و ياد شراب ميں
شوق ثواب نے مجھے ڈال عذاب ميں

کہتے ہيں تم کو ہوش نہيں اضطراب ميں
سارے گلے تمام ہوئے اک جواب ميں

رہتے ہيں جمع کوچہ جاناں ميں خاص و عام
آباد ايک گھر ہے جہاں خراب ميں

بد نام ميرے گر يہ رسوا سے ہو چکے
اب عذر کيا رہا نگہ بے حجاب ميں

ناکاميوں سے کامک رہا عمر بھر ہميں
پري ميں ياس ہے جو ہوس تھي شباب ميں

دونوں کا ايک حال ہے يہ مدعا ہو کاش
وہ ہي خط اس نے بھيج ديا کيوں جواب ميں

تقدير بھي بري مري تدبير بھي بري
بگڑے وہ پر سش سبب اجتناب ميں

کيا جلوے ياد آئے کہ اپني خبر نہيں
بے بادہ مست ہوں ميں شب ماہ تاب میں

پيہم سجود پائے صنم پر دم و داع
مومن خدا کو بھول گئے اضطراب ميں​
مکمل تحریر >>

ہر غنچہ لب سے عشق کا اظہار ہے غلط

ہر غنچہ لب سے عشق کا اظہار ہے غلط
اس مبحث صحيح کي تکرار ہے غلط

کہنا پڑا درست کہ اتنا رہے لحاظ
ہر چند وصل غير کا انکار ہے غلط

کر تے ہيں مجھ سے دعوي الفت وہ کيا کريں
کيونکر کہيں مقولہ اغيار ہے غلط

يہ گرم جوشياں تري گو دل سے ہوں ولے
تاثير نالہ ہائے شرر بار ہے غلط

کرتے ہو مجھ سے راز کي باتين تم اس طرح
گويا کہ قول محرم اسرار ہے غلط

اٹھ جا کہا تلک کوئي باتيں اٹھائے گا
نا صح تو خود غلط تري گفتار ہے غلط

سچ تو يہ ہے کہ اس بت کافر کے دور ميں
لاف و گزاف مومن ديندار ہے غلط​
مکمل تحریر >>

Thursday, November 2, 2017

تھا بہت شوق وصل تو نے تو


دل ميں اس شوخ کے جو راہ نہ کي
ہم نے بھي جان دي پر آہ نہ کي 
تھا بہت شوق وصل تو نے تو
کمي اے حسن تاب کاہ نہ کي 
ميں بھي کچھ خوش نہيں وفا کر کے
تم نے اچھا کيا نباہ نہ کي 
محتسب يہ ستم غريبوں پر
کبھي تنبيہ بادشاہ نہ کي 
گريہ و آہ بے اثر دونوں 
کس نے کشتي مري تباہ نہ کي 
تھا مقدر ميں اس سے کم ملنا
کيوں ملاقات گاہ گاہ نہ کي 
ديکھ دشمن کو اٹھ گيا بے ديد
ميرے احوال پر نگاہ نہ کي 
مومن اس ذہن بے خطا پر حيف
فکر آمرزش گناہ نہ کي​
مکمل تحریر >>

دکھاتے آئينہ ہو اور مجھ ميں جان نہيں


دکھاتے آئينہ ہو اور مجھ ميں جان نہيں
کہو گے پھر بھي کہ ميں تجھ سا بد گمان نہيں

ترے فراق ميں آرام ايک آن ہيں
يہ ہم سمجھ چکے گر تو نہيں تو جان نہيں

نہ پوچھو کچھ مرا احوال مري جاں مجھ سے
يہ ديکھ لو کہ مجھے طاقت بيان نہيں

يہ گل ہيں داغ جگر کے انہيںں سمجھ کر چھيڑ
يہ باغ سينہ عاشك گلستان نہيں

شب فراق ميں پہنچي نہ دل سے جان تلک
کہيں اجل بھي تو مجھ سي ہي ناتوان نہيں

وہ حال پوچھے ہے ميں چشم سرمگيں کو ديکھ
يہ چپ ہوا ہوں کہ گويا مري زبان نہيں

نکل کے دير سے مسجد ميں جا رہ اے مومن
خدا کا گھر تو ہے تيرے اگر مکان نہيں
مکمل تحریر >>

ناکامیوں میں تم نے جو تشبیہ مجھ سے دی


محشر میں پاس کیوں دمِ فریاد آگیا
رحم اس نے کب کیا تھا کہ اب یاد آگیا

الجھا ہے پاؤں یار کا زلفِ دراز میں
لو آپ اپنے دام میں‌ صیّاد آگیا

ناکامیوں میں تم نے جو تشبیہ مجھ سے دی
شیریں کو درد تلخیِ فرہاد آگیا

ہم چارہ گر کو یوں ہی پہنائیں گے بیڑیاں
قابو میں اپنے گر وہ پری زاد آگیا

دل کو قلق ہے ترکِ محبت کے بعد بھی
اب آسماں کو شیوہء بے داد آگیا

وہ بدگماں ہوا جو کبھی شعر میں مرے
ذکرِ بتانِ خلخ و نوشاد آگیا

تھے بے گناہ جراءتِ پابوس تھی ضرور
کیا کرتے وہم خجلتِ جلاد آگیا

جب ہوچکا یقیں کہ نہیں طاقتِ وصال
دم میں ہمارے وہ ستم ایجاد آگیا

ذکرِ شراب و حور کلامِ خدا میں دیکھ
مومن میں کیا کہوں مجھے کیا یاد آگیا
مکمل تحریر >>

تم بھی رہنے لگے خفا صاحب

تم  بھی  رہنے  لگے خفا صاحب
کہیں  ساءیہ  مرا   پڑا   صاحب

ہے  یہ  بندہ  ہی  بے  وفا صاحب
غیر  اور  تم  بھلے ،  بھلا صاحب

کیوں الجھتے ہو جنبش لب سے
خیر  ہے  میں  نے کیا کیا صاحب

دم   آخر   بھی   تم   نہیں  آءیے
بندگی اب !   کہ میں چلا صاحب

ق۔کس پہ بگڑے تھے کس پہ غصہ تھا
رات تم  کس پہ تھے خفا صاحب

کس کو دیتے تھے گالیاں صاحب
کس کا شب ذکر خیر تھا صاحب

نام  عشق  بتاں  نہ  لو   مومن!
کیجیےء  بس  خدا  خدا   صاحب
مکمل تحریر >>

ہے صلح عدو بے خط، تھی جنگ غلط فہمی


ہم جان فدا کرتے ، گر وعدہ وفا ہوتا
مرنا ہی مقدر تھا ، وہ آتے تو کیا ہوتا

ایک ایک ادا سو سو، دیتی ہے جواب اسکے
کیونکر لبِ قاصد سے، پیغام ادا ہوتا

اچھی ہے وفا مجھ سے، جلتے ہیں جلیں دشمن
تم آج ہُوا سمجھو، جو روزِ جزا ہوتا

جنّت کی ہوس واعظ ، بے جا ہے کہ عاشق ہوں
ہاں سیر میں جی لگتا، گر دل نہ لگا ہوتا

اس تلخیِ حسرت پر، کیا چاشنیِ الفت
کب ہم کو فلک دیتا، گر غم میں مزا ہوتا

تھے کوسنے یا گالی، طعنوں کا جواب آخر
لب تک غمِ غیر آتا، گر دل میں بھرا ہوتا

ہے صلح عدو بے خط، تھی جنگ غلط فہمی
جیتا ہے تو آفت ہے، مرتا تو بلا ہوتا

ہونا تھا وصال اک شب، قسمت میں بلا سے گر
تُو مجھ سے خفا ہوتا، میں تجھ سے خفا ہوتا

ہے بے خودی دایم، کیا شکوہ تغافل کا
جب میں نہ ہوا اپنا، کیونکر وہ مرا ہوتا

اس بخت پہ کوشش سے، تھکنے کے سوا حاصل
گر چارۂ غم کرتا، رنج اور سوا ہوتا

اچھی مری بدنامی تھی یا تری رُسوائی
گر چھوڑ نہ دیتا، میں پامالِ جفا ہوتا

دیوانے کے ہاتھ آیا کب بندِ قبا اُس کا
ناخن جو نہ بڑھ جاتے، تو عقدہ یہ وا ہوتا

ہم بندگئی بت سے ہوتے نہ کبھی کافر
ہر جاے گر اے مومن موجود خدا ہوتا
مکمل تحریر >>