Pages

Thursday, November 2, 2017

ناکامیوں میں تم نے جو تشبیہ مجھ سے دی


محشر میں پاس کیوں دمِ فریاد آگیا
رحم اس نے کب کیا تھا کہ اب یاد آگیا

الجھا ہے پاؤں یار کا زلفِ دراز میں
لو آپ اپنے دام میں‌ صیّاد آگیا

ناکامیوں میں تم نے جو تشبیہ مجھ سے دی
شیریں کو درد تلخیِ فرہاد آگیا

ہم چارہ گر کو یوں ہی پہنائیں گے بیڑیاں
قابو میں اپنے گر وہ پری زاد آگیا

دل کو قلق ہے ترکِ محبت کے بعد بھی
اب آسماں کو شیوہء بے داد آگیا

وہ بدگماں ہوا جو کبھی شعر میں مرے
ذکرِ بتانِ خلخ و نوشاد آگیا

تھے بے گناہ جراءتِ پابوس تھی ضرور
کیا کرتے وہم خجلتِ جلاد آگیا

جب ہوچکا یقیں کہ نہیں طاقتِ وصال
دم میں ہمارے وہ ستم ایجاد آگیا

ذکرِ شراب و حور کلامِ خدا میں دیکھ
مومن میں کیا کہوں مجھے کیا یاد آگیا
مکمل تحریر >>

تم بھی رہنے لگے خفا صاحب

تم  بھی  رہنے  لگے خفا صاحب
کہیں  ساءیہ  مرا   پڑا   صاحب

ہے  یہ  بندہ  ہی  بے  وفا صاحب
غیر  اور  تم  بھلے ،  بھلا صاحب

کیوں الجھتے ہو جنبش لب سے
خیر  ہے  میں  نے کیا کیا صاحب

دم   آخر   بھی   تم   نہیں  آءیے
بندگی اب !   کہ میں چلا صاحب

ق۔کس پہ بگڑے تھے کس پہ غصہ تھا
رات تم  کس پہ تھے خفا صاحب

کس کو دیتے تھے گالیاں صاحب
کس کا شب ذکر خیر تھا صاحب

نام  عشق  بتاں  نہ  لو   مومن!
کیجیےء  بس  خدا  خدا   صاحب
مکمل تحریر >>

ہے صلح عدو بے خط، تھی جنگ غلط فہمی


ہم جان فدا کرتے ، گر وعدہ وفا ہوتا
مرنا ہی مقدر تھا ، وہ آتے تو کیا ہوتا

ایک ایک ادا سو سو، دیتی ہے جواب اسکے
کیونکر لبِ قاصد سے، پیغام ادا ہوتا

اچھی ہے وفا مجھ سے، جلتے ہیں جلیں دشمن
تم آج ہُوا سمجھو، جو روزِ جزا ہوتا

جنّت کی ہوس واعظ ، بے جا ہے کہ عاشق ہوں
ہاں سیر میں جی لگتا، گر دل نہ لگا ہوتا

اس تلخیِ حسرت پر، کیا چاشنیِ الفت
کب ہم کو فلک دیتا، گر غم میں مزا ہوتا

تھے کوسنے یا گالی، طعنوں کا جواب آخر
لب تک غمِ غیر آتا، گر دل میں بھرا ہوتا

ہے صلح عدو بے خط، تھی جنگ غلط فہمی
جیتا ہے تو آفت ہے، مرتا تو بلا ہوتا

ہونا تھا وصال اک شب، قسمت میں بلا سے گر
تُو مجھ سے خفا ہوتا، میں تجھ سے خفا ہوتا

ہے بے خودی دایم، کیا شکوہ تغافل کا
جب میں نہ ہوا اپنا، کیونکر وہ مرا ہوتا

اس بخت پہ کوشش سے، تھکنے کے سوا حاصل
گر چارۂ غم کرتا، رنج اور سوا ہوتا

اچھی مری بدنامی تھی یا تری رُسوائی
گر چھوڑ نہ دیتا، میں پامالِ جفا ہوتا

دیوانے کے ہاتھ آیا کب بندِ قبا اُس کا
ناخن جو نہ بڑھ جاتے، تو عقدہ یہ وا ہوتا

ہم بندگئی بت سے ہوتے نہ کبھی کافر
ہر جاے گر اے مومن موجود خدا ہوتا
مکمل تحریر >>

مومن خان مومن

مومن خاں حکیم نامدار خاں کے بیٹے حکیم غلام نبی خاں کے فرزند تھے۔حکیم نامدار خاں اور حکیم کامدار خاں نامی دو بھائی مغلیہ سلطنت کے آخری دور میں کشمیر سے آکر شاہی طبیبوں میں شامل ہو ئے تھے۔ والی ہنر شاہ عالم نے موضع بلاہا وغیرہ پرگنہ نرنول میں جاگیر عطا کی جسے بعد میں نواب فیض طلب خاں نے ضبط کر کے ہزار روپے پنشن حکیم نامدار خاں کے وارثوں کے نام مقرر کر دی ۔ مومن کی پیدائش 1800ءمیں کوچہ چیلان دہلی میں ہوئی۔ ان کے والد غلام نبی خاں کو شاہ عبدالعزیز دہلوی سے خاص عقیدت تھی۔ شاہ عبد العزیز دہلوی نے ہی تولد کے وقت ان کے کان میں اذان دی اورمومن خاں نام تجویز کیا۔ حالانکہ والد نے ان کا نام حبیب اللہ خاں رکھا تھا لیکن وہ شاہ صاحب کے دئے ہوئے نام سے ہی مشہور زمانہ ہوئے۔ 21مئی سنہ 1851ءکو داعیِ اجل کو لبیک کہا اور ان کا مدفن دلی دروازے کے باہر حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی رحمت اللہ علیہ کی درگاہ کے پاس ہے۔
مکمل تحریر >>